رشتے کے لیے پہلی ملاقات
یہ زبیر کے گھر والوں سے میری پہلی ملاقات تھی۔ دل کی کیفیت ایسی تھی جیسے کسی نے سینے پر بوجھ رکھ دیا ہو۔ گھبراہٹ، پریشانی اور بے شمار سوالات ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ آخر یہ میری زندگی کے سب سے اہم فیصلوں میں سے ایک تھا۔
اتنے میں امی کی آواز آئی:
“معصومہ بیٹا، ذرا یہاں آنا۔”
یہ آواز انہوں نے بھائی کو دی تھی کہ مجھے بلا لیں۔
میں آہستہ آہستہ کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی اور دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اگر میری شادی پہلی ملاقات میں طے ہو گئی تو یہ اللہ کا خاص کرم ہوگا، مگر اُن لڑکیوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جنہیں بار بار رشتہ دیکھنے کے بعد انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاید ہر انکار اُن کے اعتماد کا ایک حصہ توڑ دیتا ہوگا۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں اپنی ڈگری مکمل کر چکی تھی۔ امی ابو اکثر میری فکر میں رہتے کہ ہماری بیٹی کے لیے اچھا، سمجھدار اور بااخلاق لڑکا کہاں سے ملے گا۔ گھر آنے والے رشتہ داروں، جاننے والوں اور دوستوں سے اکثر یہی کہا جاتا:
“اگر کوئی اچھا رشتہ نظر آئے تو ضرور بتائیے گا۔”
ہمارے پاکستانی معاشرے میں رشتے کی پہلی ملاقات صرف ایک رسمی ملاقات نہیں ہوتی، بلکہ دو خاندان اپنے بچوں کے مستقبل، تربیت، مزاج اور امیدوں کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں صرف چہرے نہیں بلکہ شخصیتیں دیکھی جاتی ہیں۔
اس ملاقات میں انسان کے اندازِ گفتگو، تربیت، سمجھداری اور گھر کے ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی چند لمحے طے کرتے ہیں کہ دوبارہ ملاقات ہوگی یا نہیں۔ اگر باتوں میں پختگی، لہجے میں احترام اور رویّے میں خلوص ہو تو دل خود بخود مطمئن ہونے لگتا ہے۔
میرے والدین نے ہمیشہ سادگی اور سچائی کو ترجیح دی۔ وہ جانتے تھے کہ اس ملاقات میں نہ ہمیں اپنی حیثیت سے بڑھ کر کچھ ظاہر کرنا ہے اور نہ ہی بناوٹ سے کام لینا ہے۔ اگر رشتہ پسند آ جائے تو الحمدللہ، ورنہ اللہ تعالیٰ ہماری قسمت میں اس سے بہتر ضرور لکھے گا۔
امی ابو نے میری تعلیم، تربیت، عادات اور مزاج کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے گھر کے کون کون سے کام آتے ہیں، میں کس حد تک ذمہ داری سمجھتی ہوں اور کس طرح حالات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کر لیتی ہوں۔ ابتدا میں صرف رسمی گفتگو ہوئی، مگر جب لڑکے والوں کے چہروں پر دلچسپی نظر آنے لگی تو بات مزید کھل کر ہونے لگی۔
میں نے اُس دن سادہ مگر نفیس کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ہلکا سا میک اپ، نرم سی خوشبو اور دل میں بے شمار دعائیں تھیں۔ میں چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی، سلام کیا اور اجازت لے کر ایک طرف رکھی موڑی پر بیٹھ گئی تاکہ سب کو آسانی سے چائے پیش کر سکوں۔
زبیر کی امی مسلسل مجھے غور سے دیکھ رہی تھیں جبکہ اُن کے ابو بھی خاموشی سے میرا جائزہ لے رہے تھے۔ میرے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے، مگر میری ہونے والی ساس نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا، گھبراؤ مت… آرام سے بیٹھ جاؤ، ہم خود لے لیں گے۔”
اُن کے لہجے کی نرمی نے میری آدھی گھبراہٹ ختم کر دی۔
اُس وقت میری عمر 23 سال تھی۔ میں ایک سادہ سی لڑکی تھی، نہ غیر معمولی خوبصورتی کا دعویٰ تھا اور نہ ہی کسی امیر خاندان سے تعلق۔ میرے لیے سب سے بڑی چیز میرے والدین کی عزت اور اُن کی رضا تھی۔ زبیر کا قد تقریباً 5 فٹ 10 انچ تھا جبکہ میرا قد 5 فٹ 1 انچ تھا۔
میرے سسرال والوں کی صرف اتنی خواہش تھی کہ لڑکی پڑھی لکھی، سمجھدار، وفادار اور خاندانی ہو۔ اُن کی کوئی غیر ضروری ڈیمانڈ نہیں تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ پہلی ملاقات میں ہی دلوں کو ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہونے لگا تھا۔
میری ساس نے محبت سے کہا:
“بیٹا، ہمارا اپنا گھر ہے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، دونوں بڑے شادی شدہ اور الگ رہتے ہیں۔ ہم زبیر کے ساتھ رہتے ہیں اور شاید آگے بھی رہیں گے۔ ہماری آمدن الحمدللہ مناسب ہے۔ کیا آپ ہمارے ساتھ ایڈجسٹ کر سکیں گی؟ باقی رزق تو اللہ عورت کے نصیب سے بھی دیتا ہے۔”
پہلی ملاقات میں صرف مجھے دیکھا اور سمجھا جا رہا تھا۔ زبیر اس وقت موجود نہیں تھے، اُن کی تصویر بھی مجھے بعد میں دکھائی گئی۔
جب میرے والدین اس رشتے سے مطمئن تھے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اچھا خاندان، اچھی تربیت اور عزت دینے والے لوگ ہی اصل دولت ہوتے ہیں۔
کچھ دن بعد دوسری ملاقات میں میری زبیر سے ملاقات کروائی گئی۔ اُس دن اُن کے گھر والوں نے ہمارے گھر کھانا بھی کھایا۔ ویسے میں یہ بتانا بھول گئی کہ میرا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے، جو اس سارے معاملے میں کافی دلچسپی لے رہا تھا۔
بعد میں مجھے زبیر سے الگ بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ باقی سب لوگ ڈرائنگ روم سے ٹی وی لاؤنج میں چلے گئے جبکہ دروازہ کھلا رکھا گیا۔ امی دو مرتبہ جوس دینے آئیں اور ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھتی رہیں کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔
وہ تقریباً پچیس منٹ کی ملاقات تھی۔ اُس میں کوئی فلمی باتیں نہیں ہوئیں، صرف پسند ناپسند، سوچ، ذمہ داریوں اور مستقبل کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ زبیر بہت صاف گو انسان نکلے۔ انہوں نے واضح انداز میں بتایا کہ وہ اپنی شریکِ حیات میں کن خوبیوں کو اہم سمجھتے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے بہت سے لوگوں سے رشتوں کے بارے میں بات کی تھی، مگر کہیں خاندان مناسب نہ لگتا، کہیں مزاج، کہیں آمدنی اور کہیں سوچ کا فرق آ جاتا۔
پھر ایک دن میرے چھوٹے بھائی نے کہیں سے RightSpouse.com کا نام دیکھا۔ شروع میں ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ آن لائن رشتہ کیسے تلاش کیا جاتا ہے، مگر جب ہم نے واٹس ایپ پر رابطہ کیا تو بہت اچھا اور مہذب رسپانس ملا۔ اُن کی رہنمائی سے ہم نے مختلف پروفائلز دیکھیں، لوگوں سے بات کی، اور آخرکار صرف 2000 روپے میں زبیر کی فیملی سے ملاقات ہوگئی۔
آج 2025 میں، میں اپنی یہ خوبصورت کہانی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے شیئر کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہی ہوں، کیونکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو اُس راستے سے خوشی دیتا ہے جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔